بنگلورو،8؍فروری(ایس او نیوز) کرناٹک اسمبلی کی ایوان کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ کیرل حکومت کے خطوط پر ریاست سے تعلق رکھنے والے این آر آئیز کے مسائل سے نمٹنے کیلئے علحدہ سکریٹریٹ قائم کیا جائے ۔این آر آئیز سے سرمایہ کاری کیلئے '' نورکا روٹس'' اور کیرالا نان ریسیڈنٹ کیرالائٹس ویلفیر بورڈ کا کیرل حکومت کی جانب سے قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کی تقلید کرناٹک حکومت کرے کیوں کہ کیرل کے این آر آئیز کے لئے قابل استعمال اسکیمات متعارف کی گئی ہیں۔اسمبلی میں حکومت کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے بنگالورو ' منگالورو اور ہبلی میں مائیگریشن ریسورس سنٹر کے قیام کی سفارش کی، تاکہ بیرونی ممالک میں ملازمت کے خواہشمند ریاست سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی کونسلنگ کی جاسکے ۔اس نے واپس ہونے والے این آر آئیز کو ان کے اثاثہ جات سے متعلق درپیش مسائل کے سلسلہ میں قانونی امدادی سیل کے قیام کی ضرورت کی بھی سفارش کی۔یہ سیل محکمہ داخلہ کی مشاور ت سے تشکیل دیا جاسکتا ہے ۔ بنگلورو کی ترقی کے وزیر کے جے جارج کی زیر قیادت کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ حکومت ریاست کے این آر آئیز کے لئے خصوصی شناختی کارڈ جاری کرے ۔اس نے کہا کہ این آر آئیز کی موجودہ کمیٹی کے حدود محدود ہیں اور این آر آئیز کی بہبود کو یقینی بنانے کے لئے کاموں کے لئے علحدہ گرانٹس نہیں دئے گئے ہیں۔موجودہ گرانٹ ایک کروڑ روپے کمیٹی کے اسٹاف کی تنخواہوں کیلئے ہی کافی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیٹی نے کیرل اور گوا میں قائم کردہ ین آر آئی ویلفیر کمیٹیوں کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا اور کیرل کے این آر آئیز کی بہبود کے لئے متعارف کردہ بیشتر اسکیمات سے وہ متاثر ہوئی۔''سپنا سفیلیم '' '' سونتانا '' جیسی اسکیمات کرناٹک میں بھی اختیار کی جاسکتی ہیں۔ اس میں کنڑی بولنے والے این آر آئیز کی تفصیلات کی تدوین اور ریاست سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جو بیرونی ممالک میں کام کررہے ہیں یا مقیم ہیں کا رجسٹریشن لازمی قرار دیا جائے ۔کنڑی بولنے والے این آر آئیز ریاست کیلئے اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا جہاں تک تعلق ہے حکومت ایسے افراد کا استقبال کرے اور اس مقصد کے لئے سنگل ونڈو ایجنسی قائم کرے ۔کمیٹی نے سفارش کی کہ بیرونی ممالک سے اپنی آبائی ریاست واپس لوٹنے والے کنڑی این آر آئیز کو مفت طبی خدمات کی فراہمی اور وظیفہ کی پیشکش پر بھی حکومت غور کرے ۔یہ بات اہم ہے کہ ریاستی حکومت معمولی وجوہات پر سزا کا سامنا کرنے والے بیرون ملک مقیم شہریوں کی امداد اور ایسے افراد کے لئے قانونی امداد کرنے آگے آئی ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ این آر آئیز کے لئے قانونی سیل کھولے جو خاندانی اور جائیدادوں کے تنازعات کا سامنا کررہے ہیں ۔ این آر آئیز کو بھروسہ میں لینے کے بعد تجارتی و صنعتی اداروں سے تعاون کے ذریعہ کرناٹک میں این آر آئی پالیسی متعارف کیاجائے ۔کمیٹی نے کہا کہ کیرل حکومت نے این آر آئیز کے لئے فلاحی اسکیمات کے آغاز کے لئے 148کروڑ روپے کی رقم بجٹ میں مختص کی ہے اور ان ہی خطوط پر کرناٹک حکومت بھی 50کروڑ روپے بجٹ میں مختص کرسکتی ہے ۔ اس کے بعد ہر سال اسکیم پر گرانٹس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔